کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عید کے دن لوگوں کا ایک دوسرے کو یہ کہنا جو مروی ہے کہ ”اللہ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقُلْتُ: تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، فَقَالَ: " نَعَمْ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ "، قَالَ وَاثِلَةُ: " لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَقُلْتُ: تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، قَالَ: " نَعَمْ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو عید کے دن ملا، میں نے کہا: «تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ» ”کہ اللہ ہماری اور تمہاری جانب سے قبول فرمائے۔“ انہوں نے فرمایا: جی ہاں «تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ» اور فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو عید کے دن ملا، میں نے کہا: «تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ» تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، «تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ»۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَقُلْتُ: تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، قَالَ: " نَعَمْ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ ". أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: هَذَا مُنْكَرٌ، لَا أَعْلَمُ يَرْوِيهِ عَنْ بَقِيَّةَ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رَأَيْتُهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ بَقِيَّةَ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن معدان رحمہ اللہ واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو عید کے دن ملا، میں نے کہا: «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ» ”اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ» ”اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے“۔“
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منکر ہے، میرے علم میں بقیہ سے اسے اس محمد بن ابراہیم کے سوا کوئی روایت نہیں کرتا۔ یہ روایت بقیہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ موقوف (غیر مرفوع) بھی دیکھی گئی ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منکر ہے، میرے علم میں بقیہ سے اسے اس محمد بن ابراہیم کے سوا کوئی روایت نہیں کرتا۔ یہ روایت بقیہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ موقوف (غیر مرفوع) بھی دیکھی گئی ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ الْبَزَّازُ، عَنْ أَدْهَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْعِيدَيْنِ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَلَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْنَا ". وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ وَلَا يَصِحُّ.
حافظ ثناء اللہ
ادہم مولیٰ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو عید کے دن کہا: «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ» ”اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے“ اے امیر المؤمنین! آپ جواب دیتے، لیکن انکار نہیں۔
اس کی کراہت کے بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں ہے۔
اس کی کراہت کے بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ النَّاسِ فِي الْعِيدَيْنِ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ، قَالَ: " ذَلِكَ فِعْلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ وَكَرِهَهُ ". عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عیدین میں لوگوں کے قول «تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ» ”اللہ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے“ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فعل اہل کتاب کا ہے،“ آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا ہے۔
عبدالخالق بن زید منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
عبدالخالق بن زید منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔