أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: " مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِـ قَافْ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ: هَذَا ثَابِتٌ إِنْ كَانَ عُبَيْدُ اللهِ لَقِيَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّ عُبَيْدَ اللهِ لَمْ يُدْرِكْ أَيَّامَ عُمَرَ وَمَسْأَلَتَهُ إِيَّاهُ، وَبِهَذِهِ الْعِلَّةِ تَرَكَ الْبُخَارِيُّ إِخْرَاجَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، لِأَنَّ فُلَيْحَ بْنَ سُلَيْمَانَ رَوَاهُ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَارَ الْحَدِيثُ بِذَلِكَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں کیا پڑھتے تھے؟ فرمایا: آپ ﷺ ”﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1]“ پڑھا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں فرمایا: یہ ثابت ہے اگر عبید اللہ کی ابو واقد لیثی سے ملاقات ہوئی ہو۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے کہ عبید اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ اور ان کا ابو واقد سے سوال کرنا نہیں پایا، اسی علت کی وجہ سے امام بخاری نے یہ حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، اور امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے کیونکہ فلیح بن سلیمان نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے عبید اللہ سے اور انہوں نے ابو واقد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو اس طرح یہ حدیث متصل ہو گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں فرمایا: یہ ثابت ہے اگر عبید اللہ کی ابو واقد لیثی سے ملاقات ہوئی ہو۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے کہ عبید اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ اور ان کا ابو واقد سے سوال کرنا نہیں پایا، اسی علت کی وجہ سے امام بخاری نے یہ حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، اور امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے کیونکہ فلیح بن سلیمان نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے عبید اللہ سے اور انہوں نے ابو واقد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو اس طرح یہ حدیث متصل ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا سُرَيْجٌ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي ⦗٤١٤⦘ طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بِمَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْعِيدِ، فَقُلْتُ: " بِـ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ نبی ﷺ عید کی نماز میں کیا پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ [سورة القمر: 1] اور ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَقَرَأَ بِهِمَا ". لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّيَالِسِيُّ قَوْلَهُ: وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کے دن ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھا کرتے تھے اور جب جمعہ اور عید ایک دن آ جاتے تو دونوں میں پڑھ دیتے، لیکن طیالسی نے «وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا» الی آخرہ کا ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَلَيْسَ هَذَا مَعَ حَدِيثِ أَبِي وَاقِدٍ مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ هَذَا يَحْكِي قِرَاءَةً كَانَتْ فِي عِيدٍ، وَهَذَا يَحْكِي قِرَاءَةً كَانَتْ فِي عِيدٍ غَيْرِهِ، وَقَدْ كَانَتْ أَعْيَادٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ هَذَا صَادِقًا أَنَّهُ قَرَأَ فِيِمَا ذُكِرَ فِي الْعِيدِ، وَيَكُونُ غَيْرُهُ صَادِقًا أَنَّهُ قَرَأَ بِمَا ذَكَرَ فِي الْعِيدِ. قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس حدیث اور ابو واقد کی حدیث میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ ایک عید کی قراءت نقل کرتی ہے اور وہ کسی دوسری عید کی قراءت نقل کرتی ہے، اور نبی ﷺ کے عہد میں کئی عیدیں آئیں، لہٰذا یہ راوی بھی سچا ہے کہ آپ ﷺ نے عید میں وہ پڑھا جو اس میں ذکر ہوا اور دوسرا بھی سچا ہے کہ آپ ﷺ نے عید میں وہ پڑھا جو اس نے ذکر کیا۔ یہ بات امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں کہی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس حدیث اور ابو واقد کی حدیث میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ ایک عید کی قراءت نقل کرتی ہے اور وہ کسی دوسری عید کی قراءت نقل کرتی ہے، اور نبی ﷺ کے عہد میں کئی عیدیں آئیں، لہٰذا یہ راوی بھی سچا ہے کہ آپ ﷺ نے عید میں وہ پڑھا جو اس میں ذکر ہوا اور دوسرا بھی سچا ہے کہ آپ ﷺ نے عید میں وہ پڑھا جو اس نے ذکر کیا۔ یہ بات امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں کہی ہے۔