أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ: " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ "، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " صَدَقَ "، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: " كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ بِالْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ، " قَالَ: وَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ وَأَنَا حَاضِرٌ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ". قَدْ خُولِفَ رَاوِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِي رَفْعِهِ، وَالْآخَرُ فِي جَوَابِ أَبِي ⦗٤٠٩⦘ مُوسَى، وَالْمَشْهُورُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَأَفْتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ بِذَلِكَ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی میں تکبیرات کیسے کہا کرتے تھے؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جیسے آپ ﷺ چار تکبیریں جنازہ پر کہا کرتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو موسیٰ نے سچ فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں بصرہ میں تکبیریں کہا کرتا تھا، جب میں وہاں ہوتا تھا۔
اس حدیث کے راوی کی دو مقامات پر مخالفت کی گئی ہے: ایک اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرنے میں اور دوسرا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے جواب میں۔ اس واقعے میں مشہور یہ ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی کا فتویٰ دیا اور اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا۔
اس حدیث کے راوی کی دو مقامات پر مخالفت کی گئی ہے: ایک اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرنے میں اور دوسرا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے جواب میں۔ اس واقعے میں مشہور یہ ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی کا فتویٰ دیا اور اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ: قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ قَبْلَ الْأَضْحَى فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَإِلَى أَبِي مُوسَى وَإِلَى أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَسَأَلَهُمْ عَنِ التَّكْبِيرِ، قَالَ: فَقَذَفُوا بِالْمَقَالِيدِ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " تَقُومُ فَتُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ تَقْرَأُ، ثُمَّ تَرْكَعُ فِي الْخَامِسَةِ، ثُمَّ تَقُومُ فَتَقْرَأُ، ثُمَّ تُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فَتَرْكَعُ بِالرَّابِعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عاص رضی اللہ عنہ عید الاضحی سے پہلے آئے تو انہوں نے عبداللہ بن مسعود، ابو موسیٰ اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم کی طرف کسی آدمی کو بھیجا تاکہ ان سے تکبیرات کے بارے میں سوال کرے۔ انہوں نے فیصلہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف چھوڑ دیا۔
تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تو چار تکبیریں کہہ، پھر قراءت کر، پھر پانچویں تکبیر میں رکوع کر، پھر کھڑا ہو کر قراءت کر، پھر چار تکبیریں کہہ اور چوتھی تکبیر پر رکوع کر۔
تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تو چار تکبیریں کہہ، پھر قراءت کر، پھر پانچویں تکبیر میں رکوع کر، پھر کھڑا ہو کر قراءت کر، پھر چار تکبیریں کہہ اور چوتھی تکبیر پر رکوع کر۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ خَمْسٌ فِي الْأُولَى، وَأَرْبَعٌ فِي الثَّانِيَةِ ". وَهَذَا رَأْيٌ مِنْ جِهَةِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالْحَدِيثُ الْمُسْنَدُ مَعَ مَا عَلَيْهِ مِنْ عَمَلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیدین کی پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں ہیں۔