کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ دوسرا گروہ کھڑا ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی باقی ماندہ رکعت خود پڑھے
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَهُ: " أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَمَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ، فَيَرْكَعُ بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ وَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ ". كَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں امام کے ساتھ اس کے ساتھیوں کا ایک گروہ کھڑا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے۔ امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور جو لوگ امام کے ساتھ ہیں سجدہ کریں، پھر امام کھڑا ہو جائے اور جب امام سیدھا کھڑا ہو جائے تو کھڑا ہی رہے۔ پھر وہ اپنی دوسری رکعت مکمل کریں اور سلام پھیر کر چلے جائیں۔ امام کھڑا رہے اور وہ دشمن کے سامنے ہو جائیں۔ پھر وہ آئیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ امام کے پیچھے تکبیر کہیں گے اور امام ان کو ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ سلام پھیر دے اور وہ کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کریں اور سلام پھیریں۔
وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ فَرَوَاهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: " ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ، وَجَاءُوا أُولَئِكَ وَقَامُوا وَرَاءَ الْإِمَامِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا فَقَضَوْا تِلْكَ الرَّكْعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ الْإِمَامُ ". أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ وَمَالِكٍ قَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَهَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا لِمُوَافَقَتِهِ رِوَايَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، وَسَائِرُ مَا مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں، اس میں ہے کہ: ”پھر وہ اس صف میں چلے جائیں اور وہ ان کی جگہ آ جائیں اور امام کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ پھر امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ کھڑے ہو کر اس رکعت کو پورا کریں۔ پھر امام سلام پھیر دے۔“