❮
❯
حدیث نمبر: 17308
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ} [المائدة: 33].
حافظ ثناء اللہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ﴾ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں (عبرت ناک طریقے سے) قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔“ [سورة المائدة: 33]

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ ضَرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمْنَا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَزَادٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، " فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا وَهُمْ كَذَلِكَ " قَالَ قَتَادَةُ: فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ، يَعْنِي: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ قَتَادَةُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! ہم دودھ پینے والے (مویشیوں والے) لوگ ہیں، زمین (کھیتی) والے ہم نہیں ہیں“، اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور زادِ راہ کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان (اونٹوں) کے ساتھ باہر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے، یہاں تک کہ جب حرہ کے ایک کنارے پر پہنچے تو انہوں نے نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا، اونٹ ہانک کر لے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے۔ نبی ﷺ نے ان کی تلاش میں (آدمی) بھیجے، پھر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔
اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا کہ آیت: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ (اعضاء کاٹ کر صورت بگاڑنے) سے منع فرماتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17308