السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: عتق المؤمنة في الظهار باب: ظہار (کے کفارے) میں مومن لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يُجْزِيهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي الْقَتْلِ: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92]، فَكَانَ شَرْطُ اللهِ تَعَالَى فِي رَقَبَةِ الْقَتْلِ إِذَا كَانَ كَفَّارَةً كَالدَّلِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ لَا تَجْزِيَ رَقَبَةٌ فِي كَفَّارَةٍ إِلَّا مُؤْمِنَةً كَمَا شَرَطَ اللهُ الْعَدْلَ فِي الشَّهَادَةِ فِي مَوْضِعَيْنِ، وَأَطْلَقَ الشُّهُودَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاضِعَ، فَلَمَّا كَانَتْ شَهَادَةٌ كُلُّهَا اسْتَدْلَلْنَا عَلَى أَنَّ مَا أَطْلَقَ مِنَ الشَّهَادَاتِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَى مِثْلِ مَعْنَى مَا شَرَطَ، قَالَ: وَإِنَّمَا رَدَّ اللهُ أَمْوَالَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ لَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: وَأَحَبُّ لَهُ أَنْ لَا يُعْتِقَ إِلَّا بَالِغَةً مُؤْمِنَةً وَإِنْ كَانَتْ أَعْجَمِيَّةً فَوَصَفَتِ الْإِسْلَامَ أَجْزَأَتْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسے (کفارۂ ظہار میں) دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر قائم گردن (غلام) کو آزاد کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قتل (کے کفارے) کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”تو ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92]
تو قتل کے کفارے کی گردن میں اللہ تعالیٰ کی (ایمان کی) شرط، جبکہ وہ کفارہ ہو، گویا اس بات کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ کسی بھی کفارے میں مومن کے سوا کوئی گردن کافی نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دو مقامات پر گواہی میں عدالت کی شرط لگائی ہے اور تین مقامات پر گواہوں کو مطلق ذکر کیا ہے، تو جب یہ سب گواہیاں ہی ہیں تو ہم نے اس سے استدلال کیا کہ جن گواہیوں کو مطلق ذکر کیا گیا ہے وہ ان شاء اللہ اسی معنی پر ہیں جس کی شرط لگائی گئی ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اموال مسلمانوں ہی کو لوٹائے ہیں، مشرکین کو نہیں۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں اس کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ صرف بالغ مومن (لونڈی) ہی آزاد کرے، اور اگر وہ عجمی ہو اور اسلام (کے عقائد) بیان کر دے تو (اس کا آزاد کرنا) اسے کافی ہو جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ اللهُ؟ " فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ: " مَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ: " فَأَعْتِقْهَا " فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَشْيَاءُ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ "، فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يَضُرَّنَّكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: اسْمُ الرَّجُلِ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ، كَذَا رَوَى الزُّهْرِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ مُجَوَّدًا فَقَالَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ: " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".عمر بن حکم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی، میں اس کے پاس آیا تو ریوڑ میں سے ایک بکری گم تھی، میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اسے بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے اس پر افسوس ہوا، اور میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، تو میں نے اس کے چہرے پر طمانچہ مار دیا، اور میرے ذمے ایک گردن (آزاد کرنا) ہے، کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے اس (لونڈی) سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے آزاد کر دو۔“ عمر بن حکم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔“ عمر نے کہا: اور ہم بدشگونی لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بس ایک چیز ہے جو تم میں سے کوئی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، پس یہ تمہیں ہرگز نقصان نہ دے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس آدمی کا نام معاویہ بن حکم ہے، زہری اور یحییٰ بن ابی کثیر نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک جماعت نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک سے اسے درست طور پر روایت کرتے ہوئے کہا: معاویہ بن حکم سے، اور اس کے آخر میں کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“