❮
❯
حدیث نمبر: 15255
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اور جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرتے ہیں، تو ان کے ذمے ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ (الآیۃ) [سورة المجادلة: 3]

وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: الَّذِي حَفِظْتُ مِمَّا سَمِعْتُ فِي {يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا} [المجادلة: ٣] أَنَّ " الْمُظَاهِرَ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ بِالظِّهَارِ فَإِذَا أَتَتْ عَلَيْهِ مُدَّةٌ بَعْدَ الْقَوْلِ بِالظِّهَارِ لَمْ يُحَرِّمْهَا بِالطَّلَاقِ الَّذِي تُحَرَّمُ بِهِ وَلَا بِشَيْءٍ يَكُونُ لَهُ مَخْرَجٌ مِنْ أَنْ تُحَرَّمَ بِهِ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ، كَأَنَّهُمْ يَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّهُ إِذَا أَمْسَكَ مَا حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ حَلَالٌ فَقَدْ عَادَ لِمَا قَالَ مُخَالَفَةٌ، فَأَحَلَّ مَا حَرَّمَ " قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ لَهُ مَعْنًى أَوْلَى بِهِ مِنْ هَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا أَعْلَمُ مُخَالِفًا فِي أَنَّ عَلَيْهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ وَإِنْ لَمْ يَعُدْ بِتَظَاهُرٍ آخَرَ فَلَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ مَا لَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا فِي أَنَّهُ لَيْسَ بِمَعْنَى الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا﴾ [سورة المجادلة: 3] کے بارے میں جو میں نے سنا اور یاد رکھا (وہ یہ ہے) کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو ظہار کی بنا پر حرام کر لیتا ہے، پس جب ظہار کہنے کے بعد اس پر اتنا وقت گزر جائے کہ اس نے اسے اس طلاق کے ذریعے حرام نہ کیا جس سے وہ حرام ہو جاتی ہے، اور نہ کسی ایسی چیز کے ذریعے جو اس کے لیے اس حرمت سے نکلنے کا راستہ ہو، تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہو گیا۔ گویا ان کا موقف یہ ہے کہ جب اس نے اس چیز کو حلال سمجھ کر روکے رکھا جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا تھا، تو وہ اپنی کہی ہوئی بات کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے پھر گیا اور جو حرام ٹھہرایا تھا اسے حلال کر لیا۔ فرماتے ہیں: مجھے اس کا اس سے زیادہ مناسب کوئی معنی معلوم نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں کوئی اس بات کا مخالف نہیں کہ اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہے اگرچہ وہ دوسرا ظہار نہ کرے، لہٰذا ایسی بات کہنا جائز نہیں جس کے بارے میں میرے علم میں کوئی مخالف نہیں کہ وہ آیت کا معنی نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15255