❮
❯
حدیث نمبر: 15256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ قَالَ: كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ دُلَيْجٍ تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ سَيِّئَ الْخُلُقِ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَقِيرًا وَكَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَنَازَعَتْهُ فِي بَعْضِ الشَّيْءِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَكَانَ لَهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَلَمَّا سَمِعَتْهُ يَقُولُ مَا قَالَ احْتَمَلَتْ صِبْيَانَهَا فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَتْهُ عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي بَيْتِهَا وَإِذَا عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي فَقِيرٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ سَيِّئُ الْخُلُقِ وَإِنِّي نَازَعْتُهُ فِي شَيْءٍ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَلَمْ يُرِدِ الطَّلَاقَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَقَالَ: " مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ " قَالَ: فَاسْتَكَانَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي قَالَ: وَتَحَوَّلَتْ عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِهِ الْآخَرَ فَتَحَوَّلَتْ مَعَهَا فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَتْ: وَلِي مِنْهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ "، فَبَكَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا ⦗٦٣٣⦘ نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي، وَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَرَاءَكِ فَتَنَحَّتْ وَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْمَرْأَةُ؟ " قَالَتْ: هَا هِيَ هَذِهِ قَالَ: " ادْعِيهَا " فَدَعَتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبِي فَجِيئِي بِزَوْجِكِ " قَالَ: فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ جَاءَتْ بِهِ فَأَدْخَلَتْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَتْ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَقِيرٌ، سَيِّئُ الْخُلُقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْتَعِيذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَجِدُ عِتْقَ رَقَبَةٍ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " أَفَتَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ لَهُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِذَا لَمْ آكُلِ الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ وَالثَّلَاثَ يَكَادُ أَنْ يَغْشُوَ بَصَرِي قَالَ: " فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي فِيهَا، قَالَ: فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّرَ يَمِينَهُ هَذَا مُرْسَلٌ وَلَكِنْ لَهُ شَوَاهِدُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت دلیج ایک انصاری شخص کے نکاح میں تھیں جو بدخلق، نابینا اور فقیر تھا۔ دورِ جاہلیت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جدائی چاہتا تو اس سے کہہ دیتا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ خولہ کا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس کے ایک یا دو بچے تھے۔ جب انہوں نے اس کی یہ بات سنی تو اپنے بچوں کو اٹھایا اور دوڑتی ہوئی رسول اللہ ﷺ کے پاس چلی گئیں، آپ ﷺ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کی ایک جانب دھو رہی تھیں۔ وہ آپ ﷺ کے پاس کھڑی ہو گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا خاوند فقیر، نابینا اور بدخلق ہے، میرا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ عاجز ہو گئیں اور کہنے لگیں: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سر مبارک کی دوسری جانب دھونے کے لیے پھریں تو وہ بھی ان کے ساتھ پھر گئیں اور ویسی ہی بات کہی، اور کہا: میرے اس سے ایک یا دو بچے ہیں۔ نبی ﷺ نے ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں اور کہا: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک بدل گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پیچھے ہٹ جاؤ، تو وہ ایک طرف ہٹ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ جب تک اللہ نے چاہا اسی حالت میں رہے، پھر وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ رہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ انہوں نے اسے بلایا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ۔“ وہ دوڑتی ہوئی گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں اسے لے آئیں اور نبی ﷺ کے پاس لے گئیں، تو وہ ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے کہا تھا: نابینا، فقیر اور بدخلق۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں سننے والے، جاننے والے (اللہ) کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، بسم اللہ الرحمن الرحیم: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1]“ آیت کے آخر تک۔ پھر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! جب میں ایک، دو یا تین مرتبہ نہ کھاؤں تو قریب ہوتا ہے کہ میری نظر جاتی رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، الا یہ کہ آپ اس میں میری مدد فرمائیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے منگوایا اور اس نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15256
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»