السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : أين هدي الصيد وغيره باب: شکار اور اس کے علاوہ کی قربانی کہاں کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 9902
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ مَرْوَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ بِوَادِي الْأَزْرَقِ أَرَأَيْتَ مَا أَصَبْنَا مِنَ الصَّيْدِ لَا نَجِدُ لَهُ بَدَلًا مِنَ النَّعَمِ؟، قَالَ: " تَنْظُرُ مَا ثَمَنُهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى مَسَاكِينِ أَهْلِ مَكَّةَ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ہم وادیٔ ازرق میں تھے، ہم نے پوچھا: ”اگر ہم شکار کر لیں اور چوپایوں میں سے ان کا بدل نہ پائیں؟“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”اس کی قیمت کا اندازہ کر کے مکہ کے مساکین پر تقسیم کر دو۔“