حدیث نمبر: 9896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنَجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ، قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: مَا أَجِدُهَا، ⦗٣٠٤⦘ قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ: " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، فَقَالَ: " خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَطْعِمْ أَهْلَكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو برباد ہو، کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے مجامعت کر چکا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس غلام موجود نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ وہ کہنے لگا: میں نہیں پاتا تو نبی ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اپنے گھر والوں سے غریب لوگوں پر! اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے، جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9896
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5812»