السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: فدية النعام وبقر الوحش وحمار الوحش باب: شتر مرغ، جنگلی گائے اور جنگلی گدھے کے فدیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 9871
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي بَقَرَةِ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ، وَفِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ "، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ فِي النَّعَامَةِ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ بَدَنَةً ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جنگلی گائے کے عوض گائے، جنگلی بکری اور ہرن کے عوض بکری ہے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ سنتا رہا ہوں کہ جب محرم شتر مرغ کو قتل کرے تو اس کے عوض اونٹ کی قربانی ہے۔