❮
❯
حدیث نمبر: 9868
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَابْنَ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالُوا: " فِي النَّعَامَةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ بَدَنَةٌ مِنَ الْإِبِلِ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَكْثَرِ مِمَّنْ لَقِيتُ فَبِقَوْلِهِمْ: إِنَّ فِي النَّعَامَةِ بَدَنَةً وَبِالْقِيَاسِ قُلْنَا: فِي النَّعَامَةِ بَدَنَةٌ لَا بِهَذَا، قَالَ الشَّيْخُ: وَجْهُ ضَعْفِهِ كَوْنُهُ مُرْسَلًا، فَإِنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ وُلِدَ سَنَةَ خَمْسِينَ وَلَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ، وَلَا عُثْمَانَ وَلَا عَلِيًّا، وَلَا زَيْدًا وَكَانَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ صَبِيًّا وَلَمْ يَثْبُتْ لَهُ سَمَاعٌ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَإنْ كَانَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ تُوُفِّيَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ إِلَّا أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ مَعَ انْقِطَاعِ حَدِيثِهِ عَمَّنْ سَمَّيْنَا مِمَّنْ تَكَلَّمَ فِيهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عطا خراسانی کہتے ہیں کہ حضرت عمر، عثمان، علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، ابن عباس اور معاویہ رضی اللہ عنہم سب شتر مرغ کے بدلے میں جس کو محرم قتل کر دیں، اونٹ کی قربانی قرار دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین کے نزدیک یہ روایت ثابت نہیں ہے، البتہ یہ ان اکثر لوگوں کا قول ہے جن سے میری ملاقات ہوئی، چنانچہ ان کے قول اور قیاس کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ شتر مرغ کے عوض اونٹ کی قربانی ہے، نہ کہ اس روایت کی بنیاد پر۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ یہ مرسل ہے، کیونکہ عطا خراسانی سن 50 ہجری میں پیدا ہوئے، انہوں نے سیدنا عمر، عثمان، علی اور زید رضی اللہ عنہم کا زمانہ نہیں پایا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں وہ بچے تھے، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا سماع ثابت نہیں، اگرچہ ان سے سننے کا احتمال ہے کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات سن 68 ہجری میں ہوئی، مزید یہ کہ مذکورہ حضرات سے ان کی روایت کے منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ عطا خراسانی ان راویوں میں سے ہیں جن پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9868
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 2/ 293»