حدیث نمبر: 9852
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ - وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ - ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رَدِيفُهُ فَقَالَتْ: إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يَزِيدُ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَبْلَ أَنْ يَرَى ابْنَ شِهَابٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ كَذَلِكَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمُ الدَّيْنُ فَقَضَيْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سلیمان بن یسار، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ کی صبح نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے۔ وہ کہنے لگی: میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے، وہ سواری پر سوار بھی نہیں ہو سکتے، آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) عمرو بن دینار تو امام زہری سے، ابن شہاب کو دیکھنے سے پہلے اس میں کچھ اضافہ کرتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: کیا یہ ان کو نفع بھی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ اس طرح ہے کہ اگر کسی پر قرض ہو تو تو اس کو بھی ادا کر۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9852
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»