السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التخيير في فدية الأذى باب: فدیہِ اذیٰ (تکلیف پہنچنے کے فدیے) میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " ادْنُ" فَدَنَوْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ " أَظُنُّهُ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَقَالَ أَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ: " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ" فَأَمَرَنِي بِصَوْمٍ أَوْ بِصَدَقَةٍ، أَوْ بِنُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَفَسَّرَ لِي مُجَاهِدٌ فَنَسِيتُ فَأَنْبَأَنِي أَيُّوبُ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ صَدَقَةُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ نُسُكُ شَاةٍ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ میں دو یا تین مرتبہ قریب ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں یہی گمان کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) ایوب، مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ ”کیا تجھے تیرے سر کی جوؤں نے تکلیف دی ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے سنا کہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔