السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الخبر الذي ورد في الجنب ينام ولا يمس ماء باب: اس حدیث کا ذکر جو جنبی کے پانی چھوئے بغیر سو جانے کے بارے میں وارد ہے
وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنَامُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ الرِّوَايَةِ وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِنَ الْأَسْوَدِ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْهُ وَالْمُدَلِّسُ إِذَا بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ وَكَانَ ثِقَةً فَلَا وَجْهَ لِرَدِّهِ وَوَجْهُ الْجَمْعِ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى وَجْهٍ يُحْتَمَلُ وَقَدْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ شُرَيْحٍ فَأَحْسَنَ الْجَمْعَ وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأُسْتَاذُ قَدْ صَحَّ عِنْدَنَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، وَكَذَلِكَ صَحَّ حَدِيثُ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ " فَقَالَ لِي أَبُو الْوَلِيدِ: سَأَلْتُ أَبَا ⦗٣١٢⦘ الْعَبَّاسِ بْنَ شُرَيْحٍ عَنِ الْحَدِيثَيْنِ، فَقَالَ: الْحُكْمُ بِهِمَا جَمِيعًا، أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَمَسُّ مَاءً لِلْغُسْلِ، وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ فَمُفَسَّرٌ ذُكِرَ فِيهِ الْوُضُوءُ وَبِهِ نَأْخُذُ.عبدالرحمن بن اسود کے والد کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی ﷺ کا وضو کیسے تھا جب آپ حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر سو جاتے تھے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی حالتِ جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وضو کر کے سو سکتا ہے۔“
شیخ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ولید نے بیان کیا۔ میں نے ابوالعباس بن سریج سے ان دونوں حدیثوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: دونوں روایات کا ایک ہی حکم ہے۔ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں ان کی مراد یہ تھی کہ نبی ﷺ غسل کے لیے پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ حدیثِ عمر رضی اللہ عنہ مفسر ہے جس میں وضو کا ذکر ہے، ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔