أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " أُحِبُّ لَهُ إِذَا وَدَّعَ الْبَيْتَ أَنْ يَقِفَ فِي الْمُلْتَزَمِ وَهُوَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَيَقُولُ: اللهُمَّ، الْبَيْتُ بَيْتُكَ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، حَمَلْتَنِي عَلَى مَا سَخَّرْتَ لِي مِنْ خَلْقِكَ حَتَّى سَيَّرْتَنِي فِي بِلَادِكَ، وَبَلَّغْتَنِي بِنِعْمَتِكَ حَتَّى أَعَنْتَنِي عَلَى قَضَاءِ مَنَاسِكِكَ فَإِنْ كُنْتَ رَضِيتَ عَنِّي فَازْدَدْ عَنِّي رِضًا، وَإِلَّا فَمِنَ الْآنِ قَبْلَ أَنْ تَنْأَى عَنْ بَيْتِكَ دَارِي فَهَذَا أَوَانُ انْصِرَافِي إِنْ أَذِنْتَ لِي غَيْرَ مُسْتَبْدِلٍ بِكَ وَلَا بِبَيْتِكَ وَلَا رَاغِبًا عَنْكَ وَلَا عَنْ بَيْتِكَ، ⦗٢٦٩⦘ اللهُمَّ فَاصْحَبْنِي بِالْعَافِيَةِ فِي بَدَنِي وَالْعِصْمَةِ فِي دِينِي، وَأَحْسِنْ مُنْقَلَبِي، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ مَا أَبْقَيْتَنِي " وَهَذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَهُوَ حَسَنٌ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں پسند کرتا ہوں کہ جب وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف کرے تو وہ ملتزم میں کھڑا ہو، اور یہ دروازے اور رکن کے درمیان ہے اور کہے: اے اللہ! یہ تیرا گھر ہے اور تو مجھ سے راضی ہو گیا ہے تو اپنی رضامندی مزید عطا فرما، اگر نہیں تو پھر ابھی سے ہی مجھ پر راضی ہو جا، اس سے پہلے کہ تو مجھے اپنے گھر سے دور کرے۔ اب میرے کوچ کا وقت آ پہنچا، اگر تو مجھے اجازت دے، میں تیرے یا تیرے گھر کے علاوہ کچھ اور نہ چاہنے والا ہوں اور نہ ہی تجھ سے یا تیرے گھر سے بے رغبت ہونے والا ہوں، اے اللہ! تو میرے بدن میں عافیت دے اور دین میں عصمت عطا کر اور میرا لوٹنا اچھا بنا دے اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔“