أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيَالِي الْحَجِّ وَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ وَقَالَتْ: حَتَّى قَضَى اللهُ الْحَجَّ وَنَفَرْنَا مِنْ مِنًى فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكُمَا ثُمَّ تَأْتِيَانِي هَهُنَا بِالْمُحَصَّبِ، قَالَتْ: فَقَضَى اللهُ الْعُمْرَةَ وَفَرَغْنَا مِنْ طَوَافِنَا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَأَتَيْنَاهُ بِالْمُحَصَّبِ، فَقَالَ: فَرَغْتُنَّ؟ قُلْنَا: نَعَمْ فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ ارْتَحَلَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کی راتوں میں نکلے۔۔۔ انہوں نے حدیث ذکر کی اور فرمایا: حتیٰ کہ اللہ نے حج مکمل کر دیا اور ہم منیٰ سے نکلے تو محصب میں پڑاؤ کیا، آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی بہن کو لے کر حرم سے نکل جا، پھر تم دونوں اپنے طواف سے فارغ ہو کر میرے پاس محصب میں آؤ۔“ کہتی ہیں: اللہ نے عمرہ بھی کروا دیا اور ہم اپنے طواف سے فارغ ہو کر رات کے دوران ہی محصب میں پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم فارغ ہو گئے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ ﷺ نے کوچ کا اعلان کیا تو بیت اللہ کے پاس سے جب گزرے تو آپ ﷺ نے اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کی جانب چل رہے۔