السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في مال الكعبة وكسوتها باب: کعبہ کے مال اور اس کے غلاف کے بارے میں جو مروی ہے۔
حدیث نمبر: 9730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ⦗٢٦٠⦘ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ لِي جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتْرُكَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا يَعْنِي الْكَعْبَةَ، قَالَ شَيْبَةُ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ لَكَ صَاحِبَانِ فَلَمْ يَفْعَلَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں شیبہ بن عثمان کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تو انہوں نے کہا: جس طرح تو میرے ساتھ بیٹھا ہے بالکل اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور وہ کہنے لگے کہ میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ کا سارا سونا اور چاندی کچھ بھی نہ چھوڑوں، سب تقسیم کر دوں، شیبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کے دو ساتھیوں نے تو یہ کام نہیں کیا، یعنی رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دونوں ایسے آدمی ہیں کہ میں جن کی اقتدا کرتا ہوں۔