السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجنب يريد النوم فيغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة، ثم ينام باب: اس جنبی کا بیان جو سونے کا ارادہ کرے تو اپنی شرمگاہ دھو لے اور نماز جیسا وضو کرے، پھر سو جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ⦗٣٠٩⦘ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَوْتَرَ وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ " قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ مِنَ اللَّيْلِ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ اللَّيْلِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ " قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ " قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَصَرَ الْحَدِيثَ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْغُسْلِ دُونَ مَا قَبْلَهُ.سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے متعلق سوال کیا کہ آپ وتر اول رات میں پڑھتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات وتر رات کے شروع میں پڑھتے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے، میں نے کہا: آپ ﷺ کی رات کی قراءت کیسی تھی؟ کیا آپ ﷺ رات کو قراءت اونچی کرتے تھے یا آہستہ؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات آپ نے آہستہ کی اور بعض اوقات اونچی آواز سے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ جنابت میں کس طرح کرتے تھے، کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے؟ فرماتی ہیں: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بعض اوقات آپ ﷺ نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ ﷺ نے وضو کیا پھر سو گئے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔