السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من تعجل في يومين بعد يوم النحر باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کے دن کے بعد دو دنوں میں جلدی کرے۔
حدیث نمبر: 9683
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهِيَارَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَأَقْبَلَ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْحَجِّ، فَقَالَ: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ أَدْرَكَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ} [البقرة: ٢٠٣] عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفات میں کھڑے دیکھا، آپ ﷺ کے پاس اہل نجد میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے حج کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج یومِ عرفہ ہے، جس نے صبح کی نماز سے پہلے اسے پا لیا اس نے حج کو پا لیا، ایامِ منیٰ تین ایامِ تشریق ہیں، جس نے دو دن میں جلدی کی، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“۔