السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجوع إلى منى أيام التشريق، والرمي بها كل يوم إذا زالت الشمس باب: ایامِ تشریق میں منیٰ کی طرف لوٹنے، اور وہاں ہر روز زوالِ آفتاب کے بعد رمی کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، وَيَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، يدعو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ⦗٢٤٢⦘ قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ يَحْيَى ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ.امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اس جمرہ کو مارتے جو منیٰ کی مسجد کے ساتھ ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے، جب بھی کوئی کنکری مارتے تو تکبیر کہتے، پھر اس کے آگے آتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے، اپنے ہاتھ اٹھاتے، دعا کرتے اور لمبا قیام کرتے، پھر دوسرے جمرہ کے پاس آتے اور سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے اور وادی والی جانب بائیں طرف ہٹتے، وہاں قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے، پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے پاس ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر چلے جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔
زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔