السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: كون الستر أفضل وإن كان خاليا باب: تنہائی میں بھی پردہ کرنے کے افضل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ⦗٣٠٧⦘ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ: " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا " قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: " اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنَ النَّاسِ ". ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ مُخْتَصَرًا قَالَ: وَقَالَ بَهْزٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحَى مِنْهُ مِنَ النَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) بہز بن حکیم اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اپنے بدن کے کون سے حصے کو چھپائیں اور کس کو چھوڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر مگر اپنی بیوی سے یا اپنی لونڈی سے۔“ میں نے کہا: مجھے بتائیں اگر سب ایک جنس سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے کہ کوئی بھی نہ دیکھے تو یہ بہتر رہے۔“ میں نے کہا: مجھے بتلائیں جب کوئی اکیلا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔“