السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رمي الجمرة من بطن الوادي، وكيفية الوقوف للرمي باب: وادی کے نشیب سے جمرہ کی رمی کرنے اور رمی کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ: " هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ "، ⦗٢١١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ.اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ قرآن کو ایسے تالیف کرو جیسے جبریل علیہ السلام نے کیا ہے: وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں نساء کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں آل عمران کا ذکر ہے؛ تو میں ابراہیم رحمہ اللہ کو ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کو برا بھلا کہا، پھر فرمایا: مجھے عبدالرحمن بن یزید نے خبر دی کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمرہ عقبہ پر تھے، جب وہ وہاں پہنچے تو وادی کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور اس کو سامنے رکھ کر سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، میں نے کہا: لوگ تو ان کو اوپر سے مارتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے! یہ اس شخص کا مقام ہے جس پر سورہ البقرہ اتری۔