السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْأَحْجَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا يُحْمَلُ فَيُحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقَعِرُ، قَالَ: " إِنَّهُ مَا تُقُبِّلَ مِنْهَا يُرْفَعُ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا مِثْلَ الْجِبَالِ " يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ پتھر جن کے ساتھ مارا جاتا ہے، اٹھا لیے جاتے ہیں، سمجھا جاتا ہے کہ یہ کاٹے جاتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم ان کو پہاڑوں کی طرح دیکھتے۔“