السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الستر في الغسل عند الناس باب: لوگوں کی موجودگی میں غسل کرتے وقت پردہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: " سَتَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ". ⦗٣٠٥⦘.حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے لیے پردہ لٹکایا اور آپ ﷺ غسل جنابت فرما رہے تھے، پہلے آپ ﷺ نے ہاتھ دھوئے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جو اسے چیز لگی تھی، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر پھیرا، پھر پاؤں دھونے کے علاوہ نماز جیسا وضو کیا، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر الگ جگہ پر اپنے قدموں کو دھویا۔