السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من خرج من المزدلفة بعد نصف الليل باب: اس شخص کا بیان جو آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے نکلا۔
حدیث نمبر: 9511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، فَيَذْكُرُونَ اللهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوَا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزوروں کو آگے بھیجتے تو وہ مشعرِ حرام کے پاس مزدلفہ میں رات کو کھڑے ہوتے، اللہ کا ذکر کرتے جس قدر انھیں میسر ہوتا، پھر امام کے کھڑے ہونے سے پہلے چلے جاتے۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز کے وقت منیٰ آتے اور کچھ اس کے بعد، تو جب وہ آتے تو جمرہ کو مارتے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی ہے۔