السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من خرج من المزدلفة بعد نصف الليل باب: اس شخص کا بیان جو آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے نکلا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِي مِنْ جَمْعٍ بِسَحَرٍ مَعَ ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُلْتُ لِعَطَاءٍ: بَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيْلٍ؟ " قَالَ: لَا إِلَّا بِسَحَرٍ كَذَلِكَ قُلْتُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ؟ "، قَالَ: " لَا إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ " بِلَيْلٍ ": " بِلَيْلٍ طَوِيلٍ "، قَالَ: " لَا إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ سحری کے وقت ساز و سامان اور اہل عیال کو مزدلفہ سے بھیجا۔
میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رات کے وقت روانہ کر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ سحری کے وقت روانہ کیا تھا۔ اسی طرح میں نے کہا تھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے جمرہ کو فجر سے پہلے کنکریاں ماری تھیں اور انہوں نے فجر کہاں پڑھی؟ فرمایا: نہیں، بلکہ اسی طرح سحری کے وقت۔ مسلم میں بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں «بِلَيْلٍ» کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: «بِلَيْلٍ طَوِيلٍ» ”طویل رات میں“، «قَالَ: لَا إِلَّا كَذٰلِكَ بِسَحَرٍ» ”انہوں نے کہا: نہیں، مگر اسی طرح سحری کے وقت“۔