حدیث نمبر: 9502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الْإِمَامُ الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُوا إِلَى عَرَفَةَ فَيَقِيلُ حَيْثُ قُضِيَ لَهُ حَتَّى إِذَا ⦗١٩٩⦘ زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُفِيضُ فَيُصَلِّي بِالْمُزْدَلِفَةِ أَوْ حَيْثُ قَضَى الله عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقِفُ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر منیٰ میں پڑھائے، پھر عرفہ پہنچے اور جہاں جگہ ملے قیلولہ کرے حتیٰ کہ جب سورج زائل ہو تو لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر و عصر اکٹھی ادا کرے۔ پھر عرفات میں ٹھہرے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے، پھر وہاں سے لوٹے اور مزدلفہ میں نماز ادا کرے یا جہاں اللہ چاہے، پھر جمع میں ٹھہرے حتیٰ کہ جب روشنی ہو تو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے لوٹے۔ جب وہ رمیِ جمار کر لے تو اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہے جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں اور خوشبو کے جب تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت نہ کر لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9502
درجۂ حدیث محدثین: حاكم 1/ 6332
تخریج حدیث «حاكم 1/ 6332»