السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفعل من دفع من عرفة باب: جو شخص عرفات سے روانہ ہو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ " فَقَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عرفہ سے انتہائی آرام و سکون کے ساتھ لوٹے اور آپ کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم سکون کو لازم پکڑو، نیکی اونٹ گھوڑے دوڑانے سے نہیں ہے۔“
فرماتے ہیں: پس میں نے (آپ کی سواری) کو نہیں دیکھا کہ وہ پاؤں کو اٹھا کر چلتی ہو (یعنی دوڑتی ہو) حتیٰ کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔