السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفعل من دفع من عرفة باب: جو شخص عرفات سے روانہ ہو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حِينَ غَابَ الْقُرْصُ أَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَى الزِّمَامَ حَتَّى إنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ ⦗١٩٣⦘ وَيَقُولُ بِيَدِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى: " السَّكِينَةَ " كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی غائب ہو گئی، تو آپ ﷺ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور وہاں سے نکلے اور قصواء کی مہار کو کھینچ لیا حتیٰ کہ اس کا سر کجاوے کے کونے کے ساتھ لگنے لگا اور آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ سے فرما رہے تھے: ”آرام سے، آرام سے“، جب بھی کسی پہاڑی پر آتے تو تھوڑا سا ڈھیل دے دیتے حتیٰ کہ وہ چڑھ جاتی۔