السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة باب: سب سے افضل دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّاسٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثَرُ دُعَائِي وَدُعَاءِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي بِعَرَفَةَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ، وَشَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرِّيَاحُ، وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّهْرِ " تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يُدْرِكْ أَخُوهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ: رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ؛ لِأَسْمَعَ مَا يَدْعُو، قَالَ: فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی عرفہ میں زیادہ تر دعا یہ ہے: ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! میرے دل، سماعت، بصارت میں نور بنا دے، اے اللہ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ آسان کر دے۔ میں سینے کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملوں کے بکھرنے اور قبر کے فتنہ سے۔ میں دن اور رات میں داخل ہونے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور زمانے کی مصیبتوں اور جس چیز کے ساتھ ہوا چلتی ہے اس کے شر سے۔““
ابو شعبہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے «لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔