السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: جواز النقصان عنهما فيهما إذا أتى على ما أمر به باب: جب طہارت حاصل ہو جائے تو وضو اور غسل میں ان مقررہ مقداروں سے کم پانی استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ الْمَالِينِيِّ وَزَادَ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: " بِقِسْطٍ مِنْ مَاءٍ " وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِأَقَلَّ مِنْ مُدٍّ،.حافظ ثناء اللہ
سریج بن یونس نے اسی سند کے ساتھ مالینی کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے اور زیادتی بیان کی ہے اور ایک مرتبہ فرمایا: ”پانی کی ایک مقدار سے۔“ اس حدیث میں «مُدّ» سے کم کے متعلق بھی ذکر کیا گیا ہے۔