السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التلبية يوم عرفة وقبله وبعده حتى يرمي جمرة العقبة باب: یومِ عرفہ کو، اس سے پہلے، اور اس کے بعد تلبیہ پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے۔
حدیث نمبر: 9442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا وَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر ثقفی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، جب وہ منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے کہ تم اس دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہوئے کیا کہا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا تھا، اس کو نہ روکا جاتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اس کو برا نہ جانا جاتا۔