السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المفرد يقيم على إحرامه حتى يتحلل منه يوم النحر، وكذلك القارن باب: حجِ افراد کرنے والا اپنے احرام پر قائم رہے یہاں تک کہ وہ قربانی کے دن اس سے حلال ہو جائے، اور اسی طرح قارن (حجِ قران کرنے والا) بھی۔
حدیث نمبر: 9428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٧٨⦘ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَفِي الْأَحَادِيثِ الَّتِي مَضَتْ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ دَلِيلٌ عَلَى هَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کو نکلے، ہم میں سے کوئی حج کا تلبیہ کہتا تھا تو کوئی عمرہ کا اور کوئی حج و عمرہ دونوں کا، اور رسول اللہ ﷺ نے حج کا تلبیہ کہا، تو جس نے عمرہ کا تلبیہ کہا وہ حلال ہو گیا اور جس نے حج کا تلبیہ کہا یا حج و عمرہ دونوں کا تو وہ حلال نہ ہوا حتیٰ کہ یوم نحر کو حلال ہوا۔