السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: جواز النقصان عنهما فيهما إذا أتى على ما أمر به باب: جب طہارت حاصل ہو جائے تو وضو اور غسل میں ان مقررہ مقداروں سے کم پانی استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 940
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يُفْتِي أَنَّ الْمَرْأَةَ تَنْقُضُ رَأْسَهَا عِنْدَ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ: " لَقَدْ كَلَّفَ النِّسَاءَ تَعَبًا وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، وَإِذَا تَوْرٌ مَوْضُوعٌ مِثْلُ الصَّاعِ أَوْ دُونَهُ فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مِرَارٍ جَمِيعًا ".حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر مکی فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتویٰ دیتے تھے کہ عورت غسل جنابت کے وقت سر کھولے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ انہوں نے عورت کو مشقت میں ڈال دیا ہے جب کہ میں اور رسول اللہ ﷺ اس سے غسل کرتے تھے، ہاں ایک پیالہ صاع کے برابر یا اس سے کم رکھا ہوا تھا، میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتی۔