حدیث نمبر: 9389
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أنبأ كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ مَكَّةَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ ⦗١٦٦⦘ وَيَحِلُّوا وَذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَدْ قَلَّدَهَا، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلَالٌ وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ پہنچے تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ”وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کریں، پھر اپنے بال کٹوائیں اور حلال ہوجائیں۔“ یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس قربانی نہیں ہے اور جس کے ساتھ اس کی اہلیہ ہے وہ اور کپڑے اور خوشبو اس کے لیے حلال ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9389
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1644»