حدیث نمبر: 9370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، وَأَيُّوبَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَوَّلُ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا؛ لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ، وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَتْ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ أَنِيسٌ وَلَا شَيْءٌ؟، قَالَتْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ فَقَالَتْ لَهُ: آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَتْ: إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا، ثُمَّ رَجَعَتْ وَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الْبَيْتِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: {رَبِّ إِنِّي أَسَكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ} حَتَّى بَلَغَ {لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ} [إبراهيم: ٣٧] فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا، وَجَاعَ وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى، أَوْ قَالَ: يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا فَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلِذَلِكَ سَعَى النَّاسُ بَيْنَهُمَا " فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ: ⦗١٦١⦘ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ أَيْضًا فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: قَدْ أُسْمِعْتُ إنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ، أَوْ قَالَ: بِجَنَاحِهِ، حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهِيَ تَفُورُ بِقَدْرِ مَا تَغْرِفُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرْحَمُ اللهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ، أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا "، قَالَ: فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا وَقَالَ لَهَا الْمَلَكُ: لَا تَخَافِي مِنَ الضَّيْعَةِ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللهِ يَبْنِيهِ هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُضَيِّعُ أَهْلَهُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورتوں نے پہلے جو کمر بند باندھا ہے یہ امِ اسماعیل کی طرف سے ہے، انھوں نے یہ کمر بند باندھا تاکہ اپنے اثرات سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے چھپالیں، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام ان کو اور ان کے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لے کر آئے اور وہ اسے دودھ پلا رہی تھیں، حتیٰ کہ ان کو بیت اللہ کے پاس رکھا اور ان دنوں مکہ میں کوئی نہیں تھا اور وہاں پر پانی بھی نہیں تھا، انھوں نے ان دونوں کو وہیں ٹھہرایا اور ان کے پاس ایک تھیلا رکھا، جس میں کھجوریں تھیں اور مشکیزہ رکھا جس میں پانی تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام منہ پھیر کر جانے لگے تو امِ اسماعیل ان کے پیچھے گئیں اور کہا: ”اے ابراہیم! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر جس میں کوئی انیس نہیں جس سے مانوس ہوا جائے اور پانی نہیں ہے۔“ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور وہ ان کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے تھے تو انھوں نے کہا: ”کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ انھوں نے کہا: «نَعَمْ» ”ہاں!“ کہنے لگیں: «إِذَنْ لَا يُضَيِّعَنَا» ”پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔“ پھر وہ لوٹ آئیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام چلے گئے حتیٰ کہ جب بیت اللہ کے پاس پہنچے جہاں وہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تھے تو اپنا چہرہ بیت اللہ کی طرف کیا۔ پھر یہ دعائیں مانگیں اور اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: ﴿رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ﴾ [سورة إبراهيم: 37] ”اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو بنجر زمین میں ٹھہرایا ہے تیرے عزت والے گھر کے پاس حتیٰ کہ وہ یہاں تک پہنچے تاکہ وہ شکر کریں“، تو امِ اسماعیل ان کو دودھ پلاتیں اور خود پانی پی لیتیں حتیٰ کہ جب پانی ختم ہوگیا تو وہ بھی پیاسی ہوگئیں اور ان کا بیٹا بھی اور بھوک نے بھی ستایا تو وہ گردن گھما کر دیکھنے لگی اور ڈرتے ڈرتے اپنے قریبی پہاڑ صفا پر گئیں کہ اس کو بھی دیکھ سکیں اور اس پر کھڑی ہو کر وادی کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا تو صفا سے اتریں حتیٰ کہ وادی میں پہنچ گئیں تو اپنی چادر کا پلو اٹھایا اور پھر پوری کوشش کر کے وادی کو دوڑ کر پار کیا پھر سرے پر آئیں اور دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا، انھوں نے یہ کام سات مرتبہ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسی وجہ سے لوگوں نے اس کی سعی کی“، تو جب وہ مروہ پر چڑھیں تو اس نے ایک آواز سنی۔ تو دل میں کہتیں: «صَهْ» ”خاموش!“ پھر اس نے غور سے سنا، کہنے لگی: ”تو نے سنا دیا ہے اگر تیرے پاس کچھ تعاون ہے“، تو اچانک وہ ایک فرشتے کے پاس تھیں زمزم والی جگہ پر، وہ اس کو اپنے پر یا ایڑی کے ساتھ کرید رہا تھا، حتیٰ کہ پانی نکل آیا تو وہ اس کو حوض بنانے لگی اور پانی سے اپنے مشکیزے میں چلو بھرنے لگی اور وہ اس قدر جوش مارتا جتنا وہ چلو بھرتی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ امِ اسماعیل پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں یا چلو نہ بھرتیں تو زمزم ہم پر بہنے والا ہوتا“، تو اس نے پیا اور بچے کو دودھ پلایا اور اس کو فرشتے نے کہا: ”گھبرانا نہیں یہاں اللہ کا گھر ہے جس کو یہ بچہ اور اس کا والد تعمیر کریں گے، اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں فرماتا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9370
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري3184۔ احمد 1/347»