❮
❯
حدیث نمبر: 9360
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ: قَالَ: فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بِالَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ مِنْ ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إنَّ هَذَا لَعِلْمٌ وَأَمْرٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إنَّ النَّاسَ إِلَّا مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّنْ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَهَلْ عَلَيْنَا يَا رَسُولَ اللهِ حَرَجٌ فِي أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَسْمَعُ هَذِهِ الْآيَةَ قَدْ أُنْزِلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَعَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ حِينَ ذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ كَذَلِكَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كَذَلِكَ، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ تُوَافِقُ رِوَايَةَ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُوَافِقُ رِوَايَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هَاشِمٍ، ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ أَبُو بَكْرٍ عَلَى الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا وَأَنَّ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ مَعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے یہی حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ کو وہ بات بتائی جو عروہ نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تھی، تو ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: یہ ایسا علم اور ایسی بات ہے جو میں نے نہیں سنی تھی، میں نے اہل علم میں سے کئی لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن لوگوں کا ذکر کیا جو مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے، ان کے سوا باقی سب لوگ صفا و مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، اور جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا صفا و مروہ کا طواف کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ابوبکر کہتے ہیں: تو میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ان لوگوں کے بارے میں جو جاہلیت میں صفا و مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، اور ان کے بارے میں جو جاہلیت میں بیت اللہ کے طواف کے ساتھ صفا و مروہ کا طواف بھی کیا کرتے تھے، جب اللہ نے (صرف بیت اللہ کے) طواف کا ذکر کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9360
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1561۔ مسلم 1277»