السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: استحباب أن لا ينقص في الوضوء من مد ولا في الغسل من صاع باب: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع سے کم پانی استعمال نہ کرنے کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 936
وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ يَزِيدَ وَحْدَهُ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
یزید اکیلے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد (پانی) سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع (پانی) سے غسل کرتے تھے۔