حدیث نمبر: 9333
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗١٥١⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ قُلْتُ لَهُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ؟ قَالَ: " أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ "، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ قَامَ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَالْبَابِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْمُثَنَّى مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: آپ پناہ کیوں نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“، پھر چلے حتیٰ کہ حجرِ اسود کو بوسہ دیا، رکن اور دروازے کے درمیان کھڑے ہوئے، اپنے سینے، چہرے، بازوؤں اور ہتھیلیوں کو رکھا اور ان کو خوب پھیلایا، پھر کہا: میں نے اس طرح رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9333
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»