السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المستحاضة تطوف بالبيت باب: مستحاضہ (بیماری کے خون والی عورت) کے بیت اللہ کا طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9311
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ فَقَالَتْ: إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ أَهْرَقْتُ الدَّمَ، فَرَجَعْتُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ أَهْرَقْتُ الدَّمَ، فَرَجَعْتُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ أَهْرَقْتُ الدَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ طُوفِي ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور پوچھنے لگی: میں بیت اللہ کا طواف کرنے کی غرض سے آئی تھی حتیٰ کہ جب میں مسجد کے دروازے کے پاس پہنچی تو خون بہنا شروع ہو گیا، پھر میں چلی گئی۔ جب خون بند ہوا تو میں پھر آئی، جب مسجد کے دروازے کے پاس پہنچی تو خون شروع ہو گیا تو میں واپس چلی گئی، جب خون بند ہوا تو میں آئی اور جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو پھر خون بہنا شروع ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ شیطان کا کچوکا ہے، غسل کر اور لنگوٹا کس لے، پھر طواف کر لے۔