أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أُحِبُّ كُلَّمَا حَاذَى بِهِ يَعْنِي بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ أَنْ يُكَبِّرَ، وَأَنْ يَقُولَ فِي رَمَلِهِ: " اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا، وَسَعْيًا مَشْكُورًا، وَيَقُولُ فِي الْأَطْوَافِ الْأَرْبَعَةِ: اللهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاعْفُ عَمَّا تَعْلَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ، اللهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں پسند کرتا ہوں کہ جب بھی بندہ حجر اسود کے برابر ہو تو تکبیر کہے اور اپنے رمل میں کہے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا، وَسَعْيًا مَشْكُورًا» ”اے اللہ! اس کو حج مبرور بنا دے اور گناہ کو بخشا ہوا اور سعی کو قدر کیا ہوا“ اور باقی چار چکروں میں کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے اللہ! بخش دے اور رحم کر اور جو تو جانتا ہے اس سے درگزر کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے“، ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔“