السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الدليل على أنه بقي هيئة مشروعة في الطواف باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ (رمل) طواف میں ایک مسنون ہیئت کے طور پر باقی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِلرُّكْنِ: " أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَمَكَ، وَأَنَا أَسْتَلِمُكَ، فَاسْتَلَمَهُ، وَقَالَ: مَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ؟ إِنَّمَا رَأَيْنَا بِهِ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ أَهْلَكُهُمُ اللهُ " ثُمَّ قَالَ: " شَيْءٌ صَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُحِبُّ أَنْ نَتْرُكَهُ " ثُمَّ رَمَلَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُمْ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا ".(الف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود سے کہا: یقیناً میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ فائدہ دے سکتا ہے نہ نقصان، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرا استلام کرتے دیکھا ہے، اسی لیے میں بھی کرتا ہوں، تو پھر انہوں نے اسے بوسہ دیا اور فرمایا: ہمیں اب رمل کی حاجت نہیں ہے، یہ تو ہم نے مشرکوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا اور اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا ہے، پھر کہا: یہ ایسا کام ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، اب ہم اس کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد والے خلفاء تین چکر رمل کرتے تھے اور چار چکر آہستہ چلتے تھے۔