❮
❯
حدیث نمبر: 9269
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ الثَّلَاثَ الْأُوَلَ وَيَمْشِي الْأَرْبَعَةَ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ؟ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي؛ لِأَنَّهُ أَيْسَرُ لِاسْتِلَامِهِ.
حافظ ثناء اللہ

نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین چکر رمل کرتے اور چار چکر آہستہ چل کر لگاتے اور کہتے کہ نبی کریم ﷺ ایسے ہی کرتے تھے۔
(عبیداللہ کہتے ہیں:) میں نے نافع سے کہا: کیا وہ دونوں رکنوں کے درمیان چلتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ صرف اس لیے چلتے تھے کہ اس سے استلام آسان ہو جاتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9269
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 2/ 13، دارمي 1838»