حدیث نمبر: 9244
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، وَسَأَلَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَيْجٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ ⦗١٢٦⦘ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، يَتِيمِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟ فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ " قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: " بِئْسَ مَا قَالَ "، يَعْنِي فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ فَعَلَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَجِئْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي لَيَسْأَلَنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " فَإِنْ قَدْ كَذَبَ، قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ؟، وَلَا أَحَدَ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَأُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي، وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ، وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِطُولِهِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ هَكَذَا، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَصْبَغَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ مُخْتَصَرًا دُونَ قِصَّةِ الرَّجُلِ، وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ وَقَالَ: بَدَلَ قَوْلِهِ: لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عراقی آدمی نے ان سے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو حج کا تلبیہ کہتا ہے کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کرے گا تو حلال ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں تو انہیں کہنا کہ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ وہ حلال ہوجائے گا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: جس نے حج کا تلبیہ کہا ہے وہ حج مکمل کیے بغیر حلال نہیں ہوگا، میں نے کہا: ایک آدمی ایسا کہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس نے بہت برا کہا ہے، وہ آدمی مجھے ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کو ساری بات بتائی تو اس نے کہا: انہیں کہنا ایک آدمی کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے کیا ہے اور اسماء رضی اللہ عنہا اور زبیر رضی اللہ عنہ کا کیا معاملہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں آیا اور یہ بات انہیں کہی تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: علم نہیں وہ کون ہے۔ کہنے لگے: اس کو کیا ہے کہ وہ میرے پاس آکر مجھ سے کیوں نہیں پوچھتا، لگتا ہے کہ وہ عراقی ہے۔ میں نے کہا: مجھے علم نہیں انہوں نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ نبی ﷺ نے حج کیا اور مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مکہ میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام آپ ﷺ نے یہ کیا کہ وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف ہی کیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے علاوہ کچھ نہیں، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ پھر میں نے اپنے والد زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے ساتھ اور کچھ نہ تھا، پھر میں نے مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کو دیکھا وہ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ نہیں تھا، پھر آخر میں میں نے اس طرح کرتے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، پھر انہوں نے اس کو عمرہ کے ساتھ نہیں توڑا اور یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھتے؟ اور جو لوگ گزر گئے ہیں وہ سب جیسے ہیں اپنے قدم رکھتے تو بیت اللہ کا طواف کرتے اور حلال نہ ہوتے اور میں نے اپنی والدہ اور خالہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ جب وہ آتیں تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کچھ نہ کرتیں، پھر حلال نہ ہوتیں اور مجھے میری والدہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ اور میری خالہ رضی اللہ عنہا اور زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں اور فلاں عمرہ کے ساتھ کبھی نہیں آئے تو جب وہ رکن کو چھوتے تو حلال ہوجاتے اور جو اس نے کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9244
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 135»