السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رفع اليدين إذا رأى البيت باب: بیت اللہ کو دیکھ کر دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ ثنا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ، قَالَ الشَّيْخُ: الْأَوَّلُ مَعَ إِرْسَالِهِ أَشْهَرُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ حَدِيثِ مُهَاجِرٍ وَلَهُ شَوَاهِدُ، وَإِنْ كَانَتْ مُرْسَلَةً، وَالْقَوْلُ فِي مِثْلٍ هَذَا قَوْلُ مَنْ رَأَى وَأَثْبَتَ.حافظ ثناء اللہ
(دوسری سند سے اسی مفہوم کی روایت ہے) البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی روایت (یعنی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے والی) مرسل ہونے کے باوجود اہل علم کے نزدیک مہاجر کی حدیث سے زیادہ مشہور ہے، اور اس کے شواہد بھی ہیں اگرچہ وہ مرسل ہیں، اور اس طرح کے معاملے میں اسی کی بات معتبر ہے جس نے دیکھا اور اسے ثابت کیا۔