السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن ذلك باب: اس (ممانعت کے کام) سے روکے جانے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: " تَتَوَضَّأُ الْمَرْأَةُ وَتَغْتَسِلُ مِنْ فَضْلِ غُسْلِ الرَّجُلِ وَطَهُورِهِ، وَلَا يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ بِفَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ وَلَا طَهُورِهَا ". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ فِي هَذَا الْبَابِ الصَّحِيحُ هُوَ مَوْقُوفٌ، وَمَنْ رَفَعَهُ فَهُوَ خَطَأٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت وضو اور غسل، مرد کے وضو اور غسل سے بچے ہوئے پانی سے کر سکتی ہے اور مرد عورت کے غسل اور وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو نہیں کر سکتا۔
(ب) علی کہتے ہیں کہ اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ درست ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعیسیٰ ترمذی، امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث عبداللہ بن سرجس کے متعلق فرمایا: اس باب میں اس کا موقوف ہونا صحیح ہے۔ جس نے اس کو مرفوع بیان کیا اس نے غلطی کی۔