السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحرم يستظل بما شاء ما لم يمس رأسه باب: محرم جس چیز سے چاہے سایہ حاصل کر سکتا ہے جب تک کہ وہ اس کے سر کو نہ چھوئے۔
حدیث نمبر: 9191
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحَجِّ فَمَا رَأَيْتُهُ مُضْطَرِبًا فُسْطَاطًا حَتَّى رَجَعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَظُنُّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ أَوْ غَيْرِهِ: كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَيَسْتَظِلُّ بِنِطْعٍ أَوْ بِكِسَاءٍ وَالشَّيْءِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) عبداللہ بن عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حج میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، میں نے انہیں خیمے کی طرف بھاگتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ حج سے لوٹ آئے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس حدیث یا اس کے علاوہ دوسری حدیث میں کہا: وہ کسی درخت کے نیچے اترتے اور چھتری سے سایہ حاصل کرتے یا کپڑے اور دوسری چیز سے۔