حدیث نمبر: 9131
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ شُمَيْسَةَ، قَالَتْ: ⦗١٠٠⦘ اشْتَكَتْ عَيْنِي وَأَنَا مُحَرَّمَةٌ فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الْكُحْلِ، فَقَالَتْ: " اكْتَحِلِي بِأِيِّ كُحْلٍ شِئْتِ غَيْرَ الْإِثْمَدِ " أَوْ قَالَتْ: " غَيْرَ كُلِّ كُحْلٍ أَسْوَدَ، أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ، وَلَكِنَّهُ زِينَةٌ وَنَحْنُ نَكْرَهُهُ "، وَقَالَتْ: " إِنْ شِئْتِ كَحَّلْتُكِ بِصَبِرٍ " فَأَبَيْتُ.
حافظ ثناء اللہ

شمیسہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ میری آنکھیں خراب ہو گئیں جبکہ میں محرمہ تھی تو میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرمے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: «الْإِثْمِدُ» ”اثمد“ کے علاوہ جو سرمہ چاہے لگا لے یا فرمایا کہ ہر سیاہ سرمہ، یقیناً وہ زینت ہے، حرام نہیں ہے اور ہم اس کو ناپسند کرتے ہیں اور فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تجھے «الصَّبِرُ» ”صبر“ ڈال دوں تو میں نے انکار کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9131