السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن ذلك باب: اس (ممانعت کے کام) سے روکے جانے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا. وَهَذَا الْحَدِيثُ رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدًا لَمْ يُسَمِّ الصَّحَابِيَّ الَّذِي حَدَّثَهُ فَهُوَ بِمَعْنَى الْمُرْسَلِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ لَوْلَا مُخَالَفَتُهُ الْأَحَادِيثَ الثَّابِتَةَ الْمَوْصُولَةَ قَبْلَهُ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى.حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ میں ایک شخص سے ملا جو نبی ﷺ کے صحابی تھے جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چار سال نبی ﷺ کے ساتھ رہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ہر دن کنگھی کرنے، غسل خانے میں پیشاب کرنے، عورت کے مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے یا مرد کے عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھریں۔“
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، مگر حمید نے اس صحابی کا نام نہیں لیا جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی، لہٰذا یہ مرسل کے معنی میں ہے، البتہ یہ عمدہ مرسل ہے اگر یہ اس سے پہلے گزری ہوئی ثابت اور متصل احادیث کے خلاف نہ ہوتی۔ اور داود بن عبداللہ اودی سے شیخین (امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ) نے حجت نہیں لی۔